مسلم لیگ ن نے چودھری پرویز الٰہی کو پنجاب میں حکومت سازی کی پیشکش کی

مسلم لیگ ن نے چودھری پرویز الٰہی کو پنجاب میں حکومت سازی کی پیشکش کی

 پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سے مسلم لیگ ق کے اختلافات کسی سے ڈھکے چھُپے نہیں ہیں۔ حکومت سے اختلاف کی بنا پر ہی صوبائی وزیر برائے معدنیات نے اپنے عہدے سے استعفٰی دے دیا جس کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب نے اسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی سے ملاقات کی لیکن یہ ملاقات اسپیکر پنجاب اسمبلی کے شکووں کی پٹاری کُھلنے کے بعد ملاقات بے سود رہی اور وزیراعلیٰ پنجاب نے سارا معاملہ وزیراعظم عمران خان کے سامنے پیش کرنےاور مسلم لیگ ق کے تحفظات کو دور کرنے کی یقین دہانی کروا دی ۔تاہم اب مسلم لیگ ق کے ترجمان کامل آغا نے دعویٰ کیا ہے کہ میں نام تو نہیں لے سکتا لیکن مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت نے چودھری پرویز الٰہی کو پنجاب میں حکومت سازی کی پیشکش کی ہے جبکہ مسلم لیگ ق سے پیپلز پارٹی بھی رابطے میں ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اچھا سلوک نہیں کر رہی جبکہ وزیراعظم عمران خان کی ٹیم مسلم لیگ ق سے جان چھُڑوانا چاہتی ہے۔لیکن ہم ابھی بھی خلوص نیت سے حکومت کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان کا یہی رویہ رہا تو ساتھ چلنا مشکل ہو جائے گا۔ ہم دشمنی اور دوستی دونوں بھرپور نبھاتے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں مشاورت کی کمی ہے۔ کسی بھی معاملے پر اتحادیوں سے مشاورت نہیں کی جاتی۔ چودھری پرویز الٰہی کی زیر صدارت آج ہونے والے مسلم لیگ ق کے اعلیٰ سطحی اجلاس کے ایجنڈے سے متعلق ترجمان کامل آغا نے بتایا کہ آج اجلاس میں اتحادی معاملات پر غور کیا جائے گا۔اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے مسلم لیگ ق کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر بھی بات ہو گی۔ واضح رہے کہ مسلم لیگ ق کوپاکستان تحریک انصاف کی حکومت سے کچھ اختلافات اور تحفظات ہیں۔ حال ہی میں مسلم لیگ ق سے تعلق رکھنے والے ایک صوبائی وزیر برائے معدنیات عمار یاسر نے وزارت چھوڑ دی۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ق جان بوجھ کر حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف پر دباؤ بڑھارہی ہے، دراصل مسئلہ مونس الٰہی کو وزارت دلوانے کا ہے جب کہ صوبائی اور مرکزی کابینہ میں پہلے ہی ق لیگ کی اچھی نمائندگی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف کے قائدین مونس الٰہی کو کابینہ کا حصہ بنانے کے خلاف ہیں اور سینئر رہنماؤں نے وزیراعظم عمران خان کو اس حوالے سے مشورہ دیا ہے کہ اگر مونس الٰہی کو کابینہ میں شامل کیا گیا تو دیگر اتحادی بھی کابینہ میں حصہ مانگیں گے جو پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے لیے درد سر بن سکتا ہے۔

Share