وزیراعظم عمران خان کی نااہلی سے متعلق پٹیشن مسترد کر دی گئی

وزیراعظم عمران خان کی نااہلی سے متعلق پٹیشن مسترد کر دی گئی

اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیراعظم عمران خان کی نااہلی کے لیے دائر کی جانے والی پٹیشن مسترد کر دی۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں وزیراعظم عمران خان کی نا اہلی کے لیے دائر کی جانے والی پٹیشن پر سماعت ہوئی ۔ سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس گل حسن اورنگزیب نے کی۔ سماعت میں وزیراعظم عمران خان کی طرف سے بابر اعوام عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے دوران عدالت نے درخواستگزار کو وارننگ جاری کرتے ہوئے کہاکہ اگر آئندہ ایسی درخواست آئی تو جُرمانہ کریں گے۔ درخواستگزار نے وزیراعظم عمران خان کی نا اہلی کے لیے دائر پٹیشن میں موقف اپنایا کہ عمران خان نے کاغذات نامزدگی میں اپنی بیٹی کا ذکر نہیں کیا۔

حافظ احتشام نے درخواست میں موقف اختیار کیا کیلیفورنیا کی عدالت نے عمران خان کے خلاف فیصلہ سنایا تھا۔عدالت نے درخواستگزار سے استفسار کیا کہ آپ کا کیس آئین کے کس آرٹیکل کے تحت ہے؟آپ نے آرٹیکل 63 ایچ دیکھا ہے جو اخلاقی اقدار سے متعلق ہے؟ عدالت نے کہاکہ آپ جو الزام عائد کر رہے ہیں وہ اخلاقی اقدار سے متعلق ہے۔ ذاتی نوعیت کے الزامات سے متعلق آئین نے طریقہ کار طے کیا ہے۔ عدالت میں جسٹس اطہر من اللہ نےکہا کہ آپ خود بھی حافظ ہیں، ذاتی زندگی پر پردہ ڈالنے کا حکم ہے۔عدالت نے درخواستگزار سے کہا کہ اگر آئندہ ایسی درخواست آئی تو جُرمانہ کیا جائے گا جس کے بعد عدالت نے وزیراعظم عمران خان کی نااہلی کے لیے دائر پٹیشن مسترد کر دی۔ یاد رہے کہ شہداء فاؤنڈیشن کے حافظ احتشام نے وزیراعظم عمران خان کی نااہلی کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر کی تھی۔ پٹیشن میں کہا گیا کہ عمران خان نے اپنے انتخابی کاغذات میں حقائق چھپائے ہیں، انہوں نے امریکی خاتون سے بغیر شادی کے پیدا ہونے والی بیٹی ٹیریان کا ذکر نہیں کیا ہے جس کے سبب وہ صادق و امین نہیں رہے۔حافظ احتشام کی درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ ریحام خان نے اپنی کتاب میں عمران خان پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے ہیں، ایسے شخص کاوزیراعظم بننا ملکی سالمیت اور وقار کے خلاف ہے، وہ آئین کے آرٹیکل 62 کے تحت رکن قومی اسمبلی بننے کے اہل نہیں ہیں۔ جس پر آج اسلام آبادہائیکورٹ نے سماعت کرتے ہوئے پٹیشن کو مسترد کر دیا۔

Share